Juta pahan kar Namaz Adaa karna kaisa hai ??
سوال نمبر 01
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ دین اگر جوتا بالکل پاک اور صاف ہو نیا ہو تو کیا اس کو پہن کر نماز ادا ہو جاۓ گی؟؟ کیا یہ جائز ھے یا ناجائز ھے؟ اور اگر نماز ہو جاۓ گی تو کیا جوتا اتار کر اس کے اوپر پاؤں رکھ کر نماز پڑھنی ہو گی یا پہن کر بھی نماز صحیح ودرست ھے؟
؟ ۔۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب:-نماز جوتا پہن کر نہیں پڑھ سکتے ہیں کیونکہ نماز کی حالت میں پاؤں کی ایک انگلی کا لگانا فرض ہے اور دس میں سے اکثر انگلیوں کا لگانا واجبات میں سے ہے۔فرض ترک ہو جانے سے نماز جاتی رہتی ہے سجدۂ سہو سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی لہٰذا نماز پھر پڑھے۔ اور اگر واجبات میں قصدا ایسا کیا تو نماز ہی نہیں ہوئی۔ اور جوتا پہن کر نماز پڑھے گا تو بالکل یہ ظاہر ہے کہ پاؤں کی انگلی زمین سے نہیں لگے گی۔ جس کی وجہ سے نماز نہیں ہوگی۔اب چاہے وہ جوتا نیا ہو یا پرانا۔اور ایک بات مسجد میں جوتا پہن کر جانا بے ادبی بھی ہے۔ *ردالمحتارمیں ہے دخول المسجد متنعلا سوء الادب۲؎*
مسجد میں جوتاپہن کرداخل ہونا بے ادبی ہے۔
اور میرے آقا اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ شریف میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ہے: سخت اور تنگ پنجے کاجوتا جوسجدہ میں انگلیوں کاپیٹ زمین پربچھانے اور اس پر اعتماد کرنے زور دینے سے مانع ہو ایسا جوتا پہن کرنماز پڑھنی صرف کراہت و اساءت درکنارمذہب مشہورہ و مفتی بہ کی روسے راساً مفسد نماز ہے کہ جب پاؤں کی انگلی پراعتماد نہ ہوا سجدہ نہ ہوا اور جب سجدہ نہ ہوا نماز نہ ہوئی، امام ابوبکر جصاص و امام کرخی و امام قدوری و امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ وغیرہم اجلہ ائمہ نے اس کی تصریح فرمائی،
درمختارمیں ہے: *فیہ (ای فی شرح الملتقی) یفترض وضع اصابع القدم ولوواحدۃ نحوالقبلۃ والا لم تجز والناس عنہ غافلون وشرط طھارۃ المکان وان یجد حجم الارض والناس عنہ غافلون۱؎اھ ملخصاً*
اس (شراح الملتقی) میں ہے قدم کی انگلیوں کا زمین پرجانب قبلہ رکھنا فرض ہے خواہ وہ ایک ہی کیوں نہ ہو ورنہ جائز نہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں اور مکان کاپاک ہونا بھی شرط ہے اور حجم زمین کوپانا اور لوگ اس سے بھی غافل ہیں اھ تلخیصاً۔
اسی میں ہے : *منھا(ای من الفرائض) السجود بجبھتہ وقدمیہ ووضع اصبع واحدۃ منھما شرط۱؎۔*
ان میں سے (یعنی فرائض میں سے) پیشانی اور قدمین پرسجدہ کرناہے اور ان دونوں پاؤں میں سے ایک انگلی کالگنا شرط ہے۔
غننہ میں ہے: المراد من وضع القدم وضع اصابعھا قال الزاھ دی ووضع رؤس القدمین حالۃ السجود فرض، وفی مختصر الکرخی سجد ورفع اصابع رجلیہ عن الارض لاتجوز، وکذا فی الخلاصۃ والبزازی وضع القدم بوضع اصابعہ وان وضع اصبعا واحدۃ اووضع ظھرالقدم بلااصابع ان وجع مع ذٰلک احدی قدمیہ صح والافلا، فھم من ھذا ان المراد بوضع الاصابع توجیھھا نھو القبلۃ لیکون الاعتماد علیھا والافھووضع ظھرالقدم وقدجعلہ غیرمعتبر وھذا ممایجب التنبیہ لہ فان اکثرالناس عنہ غافلون۳؎۔
فتح القدیرمیں ہے:اما افتراض وضع القدم فلان السجود قدم مع رفعہما بالتلاعب اشبہ منہ بالتعظیم ولاجلال ویکفیہ وضع اصبع واحدۃ وفی الوجیزوضع القدمین فرض فان رفع احدٰھما دون الاخری جازویکرہ۱؎۔حوالہ فتاوی رضویہ شریف ج ۷ ص ۳۶۷ رضا فائونڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے: پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط۔ تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی، جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں ۔ حوالہ بہار شریعت ج ۱ ح ۳ ص ۵۱۳ مکتبہ المدینہ کراچی...واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
فقیر وارث قادري الحسيني
،، ۱۴ جمادی الاول ۱۴۴۲ ہجری
،، ۳۰ دسمبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز بدھ۔۔